14 مئی 2013 - 19:30
فرقہ وارانہ جنگ کا سد باب کرنا مذہبی رہنماوں کی اہم ذمہ داری

آیت اللہ اراکی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران عالم اسلام کی امن کمیٹی کی تشکیل کے بارے کہا ہے کہ اس وقت خطہ اور عالم اسلام سخت حالات سے گزر رہا ہے جن میں سے ایک اہم مسئلہ مذہبی اختلافات اور جنگ کا خطرہ ہے کیونکہ صہیونیوں اور عالمی استعمار کے حمایت یافتہ اسلام دشمنوں نے اسلامی معاشروں کے درمیان فرقہ وارانہ اور مذہبی جنگ چھیڑنے کے لے بہت وسیع پیمانے پرسرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

ابنا: تقریب مذاہب اسلامی ورلڈ اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ اراکی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران عالم اسلام کی امن کمیٹی کی تشکیل کے بارے کہا ہے کہ اس وقت خطہ اور عالم اسلام سخت حالات سے گزر رہا ہے جن میں سے ایک اہم مسئلہ مذہبی اختلافات اور جنگ کا خطرہ ہے کیونکہ صہیونیوں اور عالمی استعمار کے حمایت یافتہ اسلام دشمنوں نے اسلامی معاشروں کے درمیان فرقہ وارانہ اور مذہبی جنگ چھیڑنے کے لے بہت وسیع پیمانے پرسرمایہ کاری کر رکھی ہے۔اراکی نے مزید کہا ہے کہ اس وقت دشمنوں کی زیادہ سے زیادہ کوشش ہے کہ وہ مختلف اسلامی مذاہب اور فرقوں کے درمیان مذہبی جنگ کو چھیڑیں لہذا ہم تمام مسلمان علماء دانشوروں اور ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دشمنوں کی ان سازشوں کے مقابلے میں متحد ہو کر ان سازشوں کو ناکام بنا دیں۔تقریب مذاہب ورلڈ اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ اس وقت اسلامی معاشروں کے سیاسی اورمذہبی راہنماوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس فرقہ وارانہ جنگ کا راستہ روکیں۔آیت اللہ اراکی نے ترکی کے شہر ریحانلی میں حالیہ بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس افسوسناک واقعہ کے پیچھے صیہونیوں کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ شام افغانستان عراق اور ترکی جیسے اسلامی ممالک کے بم دھماکوں سے استفادہ کرتے ہیں۔انہوں نے اسلامی معاشروں کے تمام راہنماوں سے مطالبہ کیاہے کہ وہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اسلامی معاشروں کے اتحاد وحدت کے بارے سوچیں۔اراکی نے مزید کہا ہے کہ ہم موثر دینی راہنماوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ و ہ اتحاد ووحدت کے قیام کے لیے کوششیں کریں کیونکہ اتحاد کے ذریعے ہی اسلامی ممالک میں امن وامان قائم کیا جا سکتا ہے اور اسی طرح ان ممالک کی علمی سماجی اور معاشی بنیادوں کو مستحکم کیا جاسکتاہے۔انہوں نے وحدت کے قیام کے لیے تمام مذہبی اورسیاسی راہنماوں کودعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم علمائے الاظہر اوراسلامی ممالک کے تمام علماء سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ امت مسلمہ کوایک بنانے کے بارے سوچیں اوراس سلسلے میں اپنی کوششوں کوجاری رکھیں۔انہوں نے اس پریس کانفرنس میں اسلامی امن کمیٹی کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال ۲۶ویں وحدت اسلامی کانفرنس میں پیش ہونے والی تجویز کے پیش نظر اس جمعرا ت کو بیروت میں امن کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہورہا ہے اورعالم اسلام کی بااثر شیعہ اورسنی شخصیات اس کمیٹی کی رکن ہیں اوراس اجلا س میں امن کمیٹی کے آئین اوراس کی پروگرامنگ کی منظوری دی جائے گی۔آیت اللہ اراکی نے مزید کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ یہ کمیٹی اسلامی مذاہب کے مختلف گروپوں کوایک دوسرے کے قریب کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔انہوں نے حضرت حجربن عدی کی قبرکے کھودے جانے کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس پست اقدام کی مذمت کرتے ہیں اورجولوگ اس قسم کے اقدامات کرتے ہیں وہ اسلام سے خارج ہیں اورانہیں اسلام دشمنوں کی حمایت حاصل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲